برطانیہ نے لندن میں تعینات ایرانی سفیر کو دفترِ خارجہ طلب کر کے ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ برطانوی حکومت نے ان پوسٹس کو “اشتعال انگیز اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیانات خطے اور اندرونِ ملک کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر ایرانی سفیر کو باضابطہ طور پر طلب کیا اور واضح کیا کہ ایسے تمام مواد کی روک تھام ضروری ہے جنہیں برطانیہ کے اندر یا بین الاقوامی سطح پر تشدد پر اکسانے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہو۔
برطانوی وزیر برائے مشرق وسطیٰ ہیمش فالکنر نے سفیر کو حکومت کے سخت مؤقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ قومی سلامتی کو اپنی اولین ترجیح سمجھتا ہے اور کسی بھی ایسی سرگرمی یا بیان کو برداشت نہیں کرے گا جو استحکام کے لیے خطرہ بنے۔
دفترِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ برطانیہ نہ صرف اپنی سرزمین پر مبینہ “جارحانہ سرگرمیوں” کو بے نقاب کرتا رہے گا بلکہ خلیجی خطے میں اپنے اتحادیوں کو نشانہ بنانے والے کسی بھی اقدام کی بھی مذمت جاری رکھے گا۔
