برطانیہ میں تعینات ایران کے سفیر علی موسوی نے برطانوی میڈیا کی جانب سے “جن فدا” مہم کے حوالے سے کیے گئے دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور غلط فہمی پر مبنی قرار دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب برطانوی وزارتِ خارجہ نے ایرانی سفیر کو پارلیمانی انڈر سیکرٹری برائے مشرق وسطیٰ ہیمش فالکنر کی جانب سے دفترِ خارجہ طلب کیے جانے کے بعد ایک ملاقات میں طلب کیا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب برطانوی اخبار ڈیلی میل نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ لندن میں ایرانی سفارتخانے نے برطانیہ میں رہنے والے افراد سے ایک مبینہ “سرکاری شہید پروگرام” کے لیے رجسٹریشن کی اپیل کی تھی، جسے رپورٹ میں قومی سلامتی کے خدشات سے جوڑا گیا۔
ایرانی سفیر علی موسوی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام دعوے “غلط تشریح اور بے بنیاد اطلاعات” پر مبنی ہیں۔ ان کے مطابق “جن فدا” مہم ایک آن لائن اقدام ہے جس کا مقصد صرف قومی یکجہتی کا اظہار اور ایران کی علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے حمایت کو اجاگر کرنا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس مہم کا کسی بھی دوسرے ملک کے شہریوں سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس میں کسی قسم کا پرتشدد پہلو شامل ہے۔ سفیر کے مطابق میڈیا میں اس مہم کی جو تصویر پیش کی جا رہی ہے وہ حقیقت کی درست عکاسی نہیں کرتی بلکہ غلط فہمی اور سنسنی خیزی کا نتیجہ ہے۔
