ایران کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان آئندہ امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں باضابطہ ثالث کا کردار ادا کرے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات سے فوری نتائج کی توقع رکھنا غیر حقیقی ہوگا، تاہم تہران ایک ایسا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس سے خطے میں جنگ کے خطرات کم کیے جا سکیں۔
دوسری جانب غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق علاقائی کشیدگی، بحری راستوں پر پابندیوں اور توانائی کے بحران نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کو اپنی تجارتی سرگرمیوں، خصوصاً تیل کی ترسیل اور درآمدات میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث بعض متبادل زمینی راستے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اور بحری نقل و حرکت عالمی توانائی منڈی کے لیے اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے، کیونکہ یہ راستہ عالمی تیل و گیس کی ترسیل کا بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی کا حل صرف سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے، جبکہ امریکی حکام کی جانب سے سخت موقف اور بحری اقدامات کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔
