وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس کے اطلاق سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ قرار دیا کہ سپر ٹیکس عام انکم ٹیکس کے علاوہ ہے اس کا متبادل نہیں۔ سپر ٹیکس صرف اسی آمدن پر لاگو ہوگا جس پر بنیادی انکم ٹیکس عائد ہوتا ہے۔جائیداد یا شیئرز کی فروخت پر اگر قانون کے تحت چھوٹ حاصل ہے تو وہاں سپر ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔
انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 4 سی کے تحت سپر ٹیکس کا نفاذ آئینی قرار دیدیا گیا، چیف جسٹس امین الدین کے تحریر کردہ تفصیلی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ سپر ٹیکس کا نفاذ انکم ٹیکس سے آزاد اور ایک الگ ٹیکس کے طور پر تصور کیا جائے گا۔ٹیکس سے مستثنیٰ آمدن پر سپر ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوگا۔
جائیداد یا شیئرز کی فروخت پر اگر قانون کے تحت چھوٹ حاصل ہے تو وہاں سپرٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔ اسی طرح وراثت یا مخصوص مدت کے بعد حاصل ہونے والی آمدن بھی سپر ٹیکس سے مستثنیٰ رہے گی۔ زرعی زمین کی فروخت اور اس سے حاصل آمدن پر بھی سپر ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔
عدالت نے قرار دیا کہ سیکشن سی 4 کا اطلاق ان تمام آمدنیوں پر ہوگا جو علیحدہ ٹیکس رجیم کے تحت آتی ہیں۔ سرمائے میں اضافہ، پیٹرولیم اور ایکسپلوریشن کمپنیوں پر ٹیکس کا اطلاق قانونی حدود اور معاہدوں کے مطابق ہوگا۔ فلاحی اور پنشن فنڈز کو بھی استثنیٰ کے لیے تصدیقی عمل مکمل کرنا ہوگا۔سیکشن 4 سی کا اطلاق ٹیکس سال 2022 اور اس کے بعد کے برسوں پر ہوگا۔
عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو آمدن پر ٹیکس لگانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ایف بی آر کو سرکلر جاری کرنے کی ہدایت دائرہ اختیار سے باہر ہے عدالت نے قرار دیا کہ ماضی سے ٹیکس لاگو کرنا قانوناً جائز ہے اور مخصوص شعبوں پر مختلف شرح سے ٹیکس لگانا امتیازی سلوک نہیں بلکہ قانون سازوں کا اختیار ہے۔
