امریکی صدر Donald Trump نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی نئی امن تجویز پر محتاط مگر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی منظوری کے امکانات کم ہیں، تاہم وہ اس کا جائزہ ضرور لیں گے۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب ایرانی خبر رساں اداروں نے رپورٹ کیا کہ Iran نے Pakistan کے ذریعے امریکا کو 14 نکات پر مشتمل ایک جامع منصوبہ بھیجا ہے، جس میں جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری بیان میں کہا کہ وہ اس تجویز کا جلد جائزہ لیں گے، لیکن ان کے بقول ایران کے گزشتہ کئی دہائیوں کے اقدامات کو دیکھتے ہوئے اس کی منظوری “مشکل” دکھائی دیتی ہے۔
قبل ازیں فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ایران کی تجویز کے ابتدائی نکات سے آگاہ کیا گیا ہے اور وہ مکمل تفصیلات کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے ممکنہ فوجی کارروائی پر براہ راست بات کرنے سے گریز کیا، تاہم عندیہ دیا کہ اگر ایران نے “غلط رویہ” اپنایا تو امریکا ردعمل دے سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے 14 نکاتی منصوبے میں Strait of Hormuz کے لیے نیا فریم ورک، جنگ کے مکمل خاتمے، اور خطے سے امریکی افواج کے انخلاء جیسے نکات شامل ہیں۔ دوسری جانب امریکی مؤقف تاحال محدود اور عارضی جنگ بندی پر مرکوز بتایا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کو اپنی عسکری صلاحیتوں کی بحالی میں طویل عرصہ لگ سکتا ہے اور امریکا اس معاملے پر پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے اندرونی سیاسی سطح پر بھی ڈیموکریٹس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں قومی سلامتی کے معاملات میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔
پس منظر کے طور پر یاد رہے کہ 8 اپریل سے ایک جنگ بندی معاہدہ نافذ ہے، جو ایران، امریکا اور Israel کے درمیان تقریباً 40 دن کی کشیدگی کے بعد ممکن ہوا تھا، تاہم سفارتی پیش رفت تاحال تعطل کا شکار ہے۔
ادھر امریکا نے ایران کے خلاف بحری پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں، جبکہ ایران Strait of Hormuz میں بحری نقل و حرکت پر کڑی نگرانی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات کے باعث فوری کسی بڑے بریک تھرو کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔
