امریکہ نے عراق کے نائب وزیرِ تیل علی معارج البہادلی اور ایران نواز مسلح گروہوں کے چند رہنماؤں پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکہ محکمہ خزانہ کے مطابق ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران کو عالمی پابندیوں سے بچانے میں مدد فراہم کی اور عراقی تیل کو ایرانی تیل کے طور پر ظاہر کر کے عالمی منڈی میں فروخت کیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس طریقۂ کار کے ذریعے ایران کو اربوں ڈالرز کی آمدن حاصل ہوئی، جو بعد ازاں خطے میں سرگرم ایران نواز گروہوں اور مسلح تنظیموں کی مالی معاونت کے لیے استعمال کی گئی۔
بیان کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد پر تیل کی غیر قانونی اسمگلنگ اور اسلحے کی خرید و فروخت میں ملوث ہونے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
امریکی حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ اقدامات ایران کے خلاف جاری “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد تہران کی تیل برآمدات اور مالی ذرائع کو محدود کرنا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی معیشت کا بڑا انحصار تیل کی برآمدات پر ہے، اسی لیے امریکا مسلسل ان ذرائع کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ Iraq اور ایران کے درمیان قریبی سیاسی اور مذہبی تعلقات موجود ہیں، جبکہ بعض ایران نواز گروہ عراقی معیشت اور تیل کے شعبے میں بھی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
دوسری جانب بغداد حکومت امریکا کے ساتھ تعلقات کو مکمل طور پر خراب کرنے سے گریز کر رہی ہے، کیونکہ اسے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے لیے امریکی حمایت بھی درکار ہے۔
