بل رکن قومی اسمبلی نوشین افتخار نے پیش کیا، جس میں انسدادِ زنا بالجبر ایکٹ 2021 میں ترامیم کی گئی ، ایکٹ میں لفظ خصوصی عدالت کو عدالت برائے اطفال سے تبدیل کر دیا جائے گا۔
ترمیمی بل میں بتایا گیا کہ بچے کے ساتھ مبینہ زیادتی پر پولیس 24 گھنٹے کے اندر طبی معائنہ کو یقینی بنائے گی، بچے کے وقار، تحفط اور رازداری کو برقرار رکھتے ہوئے فرانزک سے معائنہ کرایا جائے گا۔
متن میں لکھا گیا کہ جنسی زیادتی،بچوں کے استحصال پر عدالت ضمانت نہیں دے گی جب تک غیر معمولی حالات نہ ہوں، بچے کی حفاظت اور بہبود کا جائزہ لینے کے بعد ہی ضمانت دی جا سکتی ہے ، بل کا مقصد متاثرہ بچوں کو انصاف کے حصول میں تاخیر کو دور کرنا ہے۔
اِسی ترمیمی بل میں کہا گیا کہ ہر ضلع، شہر میں بچوں کی عدالتیں قائم کرنا ہے، طویل قانونی کارروائیاں اور ثبوتوں کی کمی، متاثرین کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں، عدالت برائے اطفال کے قیام سے بچوں کو بروقت انصاف ملے گا ، بچوں سے زیادتی کے مقدمات کو فوری اور ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے پر زور دیا گیا۔
