ایران کی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے بعد اب ایران کے لیے پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا، جبکہ ایرانی مسلح افواج مکمل جنگی تیاری برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
مشہد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بریگیڈیر جنرل محمد اکرمی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ بندی انتہائی نازک توازن پر قائم ہے، اسی لیے ایرانی افواج اعلیٰ ترین سطح کی تیاری کے ساتھ موجود ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال کا فوری جواب دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی بحری حکمت عملی مکمل طور پر فعال ہے اور Strait of Hormuz کے مغربی حصے پر پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ جبکہ مشرقی حصے پر ایرانی بحری افواج کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے دشمن کو اپنے کسی بھی اسٹریٹجک ہدف تک پہنچنے نہیں دیا۔
بریگیڈیر جنرل اکرمی کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران پورے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں اور ساز و سامان کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران اب آبنائے ہرمز کے ذریعے متبادل ہتھیاروں کی ترسیل کی اجازت بھی نہیں دے گا۔
ایرانی فوجی ترجمان نے زور دے کر کہا کہ حالیہ جنگ نے خطے کی صورتحال کو یکسر تبدیل کردیا ہے اور تہران اب اپنی دفاعی اور اسٹریٹجک پالیسیوں میں کسی قسم کی پسپائی اختیار نہیں کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیوں پر دباؤ میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایران بارہا خبردار کر چکا ہے کہ اگر اس پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو خطے بھر میں امریکی اور اتحادی مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
