اسرائیلی وزیر اعظم نیتن ہایو کے دفتر نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم نے خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے اماراتی صدر محمد بن زید الہیان سے اہم ملاقات کی۔
اسرائیلی وزیراعظم آفس کے مطابق یہ ملاقات امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے حساس مرحلے میں ہوئی اور اس کے نتیجے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں “تاریخی پیش رفت” سامنے آئی۔
safartitarjuman.com کے مطابق انٹرنینشل میڈیا میں اس خفیہ دورے کی تفصیلات پہلی بار منظر عام پر آئی ہیں، جبکہ اس سے قبل سینئر امریکی حکام یہ تصدیق کر چکے ہیں کہ اسرائیل نے ایران کے حملوں سے دفاع کے لیے یو اے ای کو Iron Dome ایئر ڈیفنس بیٹریاں اور فوجی اہلکار فراہم کیے تھے۔
امریکی اخبار The Wall Street Journal کی رپورٹ کے مطابق David Barnea نے بھی ایران جنگ کے دوران کم از کم دو مرتبہ متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان عسکری اور انٹیلی جنس سطح پر رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے ایران کی ایک بڑی پیٹروکیمیکل تنصیب پر حملے کے حوالے سے بھی باہمی رابطہ رکھا۔ تاہم اس دعوے پر نہ اسرائیل اور نہ ہی اماراتی حکام کی جانب سے باضابطہ تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں Abraham Accords کے تحت سفارتی تعلقات معمول پر لائے تھے۔ اس سے قبل بھی 2018 میں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ نیتن یاہو نے خفیہ طور پر یو اے ای کا دورہ کیا تھا۔
