امریکی سینٹ میں ریپبلکن ارکان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگی اختیارات محدود کرنے کی تازہ ترین ڈیموکریٹک کوشش کو ایک بار پھر روک دیا، تاہم اس اقدام کے حق میں حمایت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
امریکی سینیٹ میں ہونے والی ووٹنگ کے دوران جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد کو آگے بڑھانے کے خلاف 50 کے مقابلے میں 49 ووٹ پڑے۔ قرارداد کے حق میں تمام ڈیموکریٹک ارکان کے ساتھ تین ریپبلکن سینیٹرز نے بھی ووٹ دیا، جس سے اس معاملے پر ریپبلکن صفوں میں بڑھتی ہوئی تقسیم واضح ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق Rand Paul، Susan Collins اور Lisa Murkowski نے قرارداد کی حمایت کی، جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر John Fetterman نے ریپبلکنز کے ساتھ مل کر اس کے خلاف ووٹ دیا۔
یہ رواں سال ساتواں موقع ہے جب سینیٹ میں ریپبلکن اکثریت نے ایران جنگ سے متعلق ایسی قراردادوں کو روک دیا۔ ڈیموکریٹس کا مؤقف ہے کہ امریکی آئین کے مطابق جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، اس لیے صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھنے کے لیے باضابطہ منظوری حاصل کرنا ہوگی۔
قرارداد کے مرکزی اسپانسر Jeff Merkley نے ووٹنگ سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان عملی طور پر جنگی صورتحال اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے امریکی بحری ناکہ بندی، ایرانی بحری جہازوں پر حملوں اور Strait of Hormuz میں کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود دونوں فریق بدستور دشمنانہ سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
مرکلے نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کو “تنازع کے خاتمے” سے تعبیر کرنا حقائق کے منافی ہے، کیونکہ خطے میں فوجی تناؤ اور حملوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
1973 کے امریکی جنگی اختیارات کے قانون کے تحت امریکی صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر صرف 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتا ہے، اس کے بعد اسے یا تو کانگریس سے اجازت لینا ہوتی ہے یا فوجی آپریشن ختم کرنا پڑتا ہے۔ یکم مئی کو اس مدت کے اختتام کے بعد ڈیموکریٹس نے ٹرمپ انتظامیہ پر قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔
ڈیموکریٹک ارکان نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے دوبارہ ایسی ہی قرارداد پیش کریں گے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک یا تو جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوجاتی یا صدر ٹرمپ کانگریس سے باضابطہ منظوری حاصل نہیں کر لیتے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سینیٹ میں قرارداد کو ملنے والی بڑھتی ہوئی حمایت اس بات کی علامت ہے کہ ایران جنگ کے معاملے پر امریکی سیاسی حلقوں میں اختلافات گہرے ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ طویل جنگ کے خدشات اور اس کے معاشی و سفارتی اثرات پر بھی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔
