امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنا دو روزہ دورۂ چین مکمل کرنے کے بعد واشنگٹن واپس پہنچ گئے، تاہم اس اہم سربراہی ملاقات کے باوجود ایران، تائیوان اور مصنوعی ذہانت (AI) جیسے حساس معاملات پر کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔ چینی صدر Xi Jinping کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں دونوں رہنماؤں نے تعلقات میں استحکام اور تعاون بڑھانے کے دعوے تو کیے، لیکن عملی نتائج محدود رہے۔
بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکہ اور چین کے درمیان ’’شاندار تجارتی معاہدوں‘‘ کا دعویٰ کیا، تاہم ان معاہدوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔ مبصرین کے مطابق اس دورے میں سیاسی اور سفارتی علامتی پیغامات زیادہ نمایاں رہے جبکہ اہم عالمی تنازعات پر واضح پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔
امریکی صدر ایک ایسے وقت میں چین پہنچے تھے جب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے ان کی حکومت پر دباؤ بڑھا رکھا ہے۔ ذرائع کے مطابق واشنگٹن چاہتا ہے کہ چین ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہو اور عالمی توانائی کی سپلائی بحال رہ سکے۔
ملاقات کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور چین دونوں چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے اور ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے۔ دوسری جانب چین نے ایک مرتبہ پھر جنگ بندی اور خطے میں استحکام پر زور دیا، تاہم بیجنگ نے واضح کیا کہ ایران کا بحران صرف چین کی ذمہ داری نہیں۔
تائیوان کا معاملہ بھی سربراہی مذاکرات کا اہم موضوع رہا۔ چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کو خبردار کیا کہ اگر تائیوان کے معاملے کو غلط انداز میں سنبھالا گیا تو یہ دونوں طاقتوں کے درمیان ’’تصادم اور حتیٰ کہ تنازع‘‘ کا سبب بن سکتا ہے۔ چینی قیادت نے تائیوان کو امریکہ اور چین تعلقات کا سب سے حساس مسئلہ قرار دیا۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی تائیوان پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ وہ تائیوان کو بڑے پیمانے پر اسلحہ فروخت کے معاملے میں محتاط رہیں گے۔
اس سربراہی اجلاس میں عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کئی بڑے نام بھی شریک تھے، جن میں Elon Musk اور Tim Cook شامل تھے۔ مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے مقابلے پر بھی تبادلہ خیال ہوا، تاہم اس حوالے سے کسی مشترکہ حکمت عملی یا معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک نے تعلقات کو کشیدگی سے بچانے اور رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا، لیکن اس دورے سے وہ بڑی سفارتی کامیابیاں حاصل نہیں ہو سکیں جن کی توقع کی جا رہی تھی۔ ایران، تائیوان اور AI جیسے معاملات بدستور دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات کے اہم نکات بنے ہوئے ہیں۔
