سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے معیشت کی بہتری اور امن عامہ کے مسائل حل کرنے کیلئے سیاسی استحکام ضروری قرار دے دیا۔ سیاسی قیدیوں سے ملاقاتوں کیلئے سینیٹ ارکان پر مشتمل کمیٹی بنانے کا مطالبہ کردیا۔
ایوان بالا میں خطاب کرتے ہوئے علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ کمیٹی بانی پی ٹی آئی اور دیگر قیدیوں سے ملاقات کرکے رپورٹ ایوان میں پیش کرے۔ ملاقات کے بعد رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے ، امن عامہ یقنی بنانے کیلئے بھی سیاسی استحکام ضروری ہے۔
قومی اسمبلی میں بھی اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی ارکان نے بانی سے ملاقات ، علاج اور کیسز کے معاملات اٹھا دیئے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا بتایا جائے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کب ہو گی؟ اور انہیں کب مرضی کے اسپتال منتقل کیا جائے گا ؟ حکومت کا یہی رویہ رہا تو ہنگامے کی ذمہ دار وہ خود ہو گی۔
پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر بولے 35 دن میں کیس کا فیصلہ کرنا لازم ہے لیکن بانی 3 سال سے جیل میں ہیں ۔ 15 بار سپریم کورٹ اور 24 بار ہائیکورٹ گئےلیکن انصاف نہیں ملا۔ اسد قیصر نے بانی کو جیل مینوئل کے تحت اسپتال منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی کی بانی سے ملاقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی تجویز کی مخالفت کر دی۔ بانی سے ملاقات کیلئے پی ٹی آئی کو ہائیکورٹ سے رجوع کا مشورہ بھی دے ڈالا۔
رانا ثناءاللہ نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو سیاسی رویوں سے ہٹ کر کوئی عمل اختیار نہیں کرنا چاہئے، غیرسیاسی عمل کے نتائج بہت مختلف ہوتے ہیں۔ ایکشن اگر کامیاب ہوجائے تو انقلاب لیکن ناکامی پر غداری کہلاتا ہے اس کی سزا ہے۔
