مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے پاکستان سے مذاکرات کی حمایت کر دی

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے پاکستان سے مذاکرات کی حمایت کر دی مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ Farooq Abdullah نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے بھارتی انتہاپسند تنظیم Rashtriya Swayamsevak Sangh اور سابق بھارتی آرمی چیف Manoj Naravane کے حالیہ بیانات کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں فاروق عبداللہ نے کہا کہ آخرکار کسی کو یہ احساس ہوا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور تمام تنازعات کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ واضح رہے کہ دو روز قبل آر ایس ایس کے سیکرٹری جنرل Dattatreya Hosabale نے کہا تھا کہ بھارت کو ہمیشہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار رہنا چاہیے اور بات چیت کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کرنے چاہئیں۔ اسی تناظر میں سابق بھارتی آرمی چیف منوج نروانے نے بھی کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے عوام کو یکساں مسائل کا سامنا ہے اور عام لوگوں کا سیاسی تنازعات سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں قوم پرست حلقوں اور سابق عسکری قیادت کی جانب سے مذاکرات کی حمایت جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے کی ممکنہ کوششوں کی علامت سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں سفارتی تناؤ اور سیکیورٹی خدشات برقرار ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ Farooq Abdullah نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے بھارتی انتہاپسند تنظیم Rashtriya Swayamsevak Sangh اور سابق بھارتی آرمی چیف Manoj Naravane کے حالیہ بیانات کو مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

اپنے بیان میں فاروق عبداللہ نے کہا کہ آخرکار کسی کو یہ احساس ہوا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور تمام تنازعات کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل آر ایس ایس کے سیکرٹری جنرل Dattatreya Hosabale نے کہا تھا کہ بھارت کو ہمیشہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار رہنا چاہیے اور بات چیت کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کرنے چاہئیں۔

اسی تناظر میں سابق بھارتی آرمی چیف منوج نروانے نے بھی کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے عوام کو یکساں مسائل کا سامنا ہے اور عام لوگوں کا سیاسی تنازعات سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت میں قوم پرست حلقوں اور سابق عسکری قیادت کی جانب سے مذاکرات کی حمایت جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے کی ممکنہ کوششوں کی علامت سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں سفارتی تناؤ اور سیکیورٹی خدشات برقرار ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے