Taiwan نے امریکی صدر Donald Trump کے انتباہ کے چند گھنٹوں بعد ایک بار پھر اپنے آپ کو “خودمختار اور آزاد ریاست” قرار دیا ہے۔
تائیوان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تائیوان “ایک جمہوری، خودمختار اور آزاد ملک ہے” اور وہ China کے تابع نہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا کی جانب سے تائیوان کو اسلحے کی فروخت واشنگٹن کی سکیورٹی ذمہ داریوں کا حصہ ہے اور یہ علاقائی خطرات کے خلاف مشترکہ دفاعی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہوں نے تائیوان کو بڑے پیمانے پر اسلحہ فروخت کرنے کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، جبکہ انہوں نے تائیوان کو باضابطہ آزادی کے اعلان سے بھی خبردار کیا تھا۔
دوسری جانب تائیوان کے نائب وزیر خارجہ Chen Ming-chi نے کہا کہ امریکا کی جانب سے اسلحہ فروخت خطے میں امن اور استحکام کے لیے ایک “بنیادی ستون” کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ امریکی قانون میں بھی شامل ہے۔
تائی پے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تائیوان اضافی دفاعی تعاون اور ممکنہ اسلحہ معاہدوں کے معاملے پر واشنگٹن کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے گا۔
