امریکی ریاست California کے شہر San Diego میں واقع سب سے بڑی مسجد میں فائرنگ کے واقعے میں تین نمازیوں سمیت مجموعی طور پر پانچ افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ حکام نے واقعے کو ممکنہ نفرت انگیز جرم قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
حکام کے مطابق فائرنگ Islamic Center of San Diego میں نماز عصر سے کچھ دیر قبل ہوئی۔ واقعے میں مسجد کا ایک سیکیورٹی گارڈ بھی مارا گیا، جسے پولیس نے “بہادری سے کارروائی کرنے والا” قرار دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق دو مشتبہ حملہ آور، جن کی عمریں 17 اور 18 برس تھیں، بعد میں مردہ پائے گئے اور ابتدائی تحقیقات کے مطابق انہوں نے بظاہر خود کو گولی مار کر ہلاک کیا۔
امریکی صدر Donald Trump نے کیلیفورنیا میں مسجد کمپلیکس پر ہونے والی فائرنگ کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے “خوفناک صورتحال” قرار دیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں واقعے سے متعلق ابتدائی بریفنگ دی گئی ہے اور امریکی حکام اس معاملے کو “بہت سنجیدگی سے” دیکھ رہے ہیں۔
Federal Bureau of Investigation نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور عوام سے معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایک مشتبہ شخص کی والدہ نے واقعے سے کچھ گھنٹے قبل اطلاع دی تھی کہ اس کا بیٹا لاپتہ ہے اور اس کے ساتھ اسلحہ بھی موجود ہے۔
سان ڈیاگو پولیس چیف نے کہا کہ یہ “ہر کمیونٹی کا بدترین خواب” ہے، جبکہ شہر کے میئر نے واضح کیا کہ “سان ڈیاگو میں نفرت اور اسلاموفوبیا کی کوئی جگہ نہیں۔”
