ایران نے امریکا کو بھیجی گئی نئی امن تجویز کی شقیں ظاہر کر دیں، پابندیوں کے خاتمے اور جنگ بند کرنے کا مطالبہ

Iran's response to 14-point US proposal expected within hours

ایران نے امریکا کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات کے دوران نئی مجوزہ امن تجویز کی اہم شقوں کو منظرِ عام پر لاتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے میں اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی بحالی اور خطے میں جنگی محاذوں کو بند کرنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق یہ ترمیم شدہ تجویز پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائی گئی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تجویز میں ایران پر عائد امریکی بحری محاصرے کے خاتمے، غیر ملکی بینکوں میں موجود ایرانی اثاثوں کی واپسی اور لبنان سمیت تمام علاقائی محاذوں پر جنگ بند کرنے کی شقیں شامل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے قریبی علاقوں سے امریکی افواج واپس بلائی جائیں اور حالیہ جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ بھی ادا کیا جائے۔ تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ نکات بڑی حد تک ایران کی سابقہ تجاویز سے ملتے جلتے ہیں، جنہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے مسترد کرتے ہوئے "کچرا” قرار دیا تھا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایران پر طے شدہ ایک بڑا حملہ مؤخر کر دیا ہے۔ ان کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے انہیں یقین دلایا ہے کہ تہران کے ساتھ ایک قابلِ قبول معاہدے تک پہنچنے کا حقیقی امکان موجود ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کا حل جنگ کے بغیر نکل آتا ہے تو یہ بہتر ہو گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران کے ساتھ اس وقت "سنجیدہ مذاکرات” جاری ہیں۔

ایک پاکستانی ذریعے نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد نے ایرانی تجویز واشنگٹن تک پہنچا دی ہے، تاہم ذریعے کے مطابق دونوں فریق اپنی شرائط میں مسلسل تبدیلیاں کر رہے ہیں جس سے مذاکرات پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔

ادھر ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن نے بعض معاملات میں نرمی دکھاتے ہوئے غیر ملکی بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثوں کے ایک چوتھائی حصے کی بحالی پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ تہران تمام اثاثوں کی واپسی چاہتا ہے۔ اسی طرح امریکا نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں ایران کو محدود پُرامن جوہری سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دینے پر بھی لچک ظاہر کی ہے۔

تاہم امریکی حکام نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ امریکا ایرانی تیل پر عائد پابندیاں ختم کرنے پر تیار ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ اپریل کے اوائل میں امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے بعد ایران کے ساتھ جنگ بندی عمل میں آئی تھی، تاہم خطے میں کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔ امریکا اور اسرائیل ایران کے ایٹمی پروگرام، میزائل صلاحیت اور خطے میں اس کے اتحادی گروپوں کی حمایت کو محدود کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے