ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے ثنا یوسف قتل کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے مرکزی ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنادی۔
27 صفحات پر مشتمل فیصلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ نے ملزم کے خلاف مضبوط اور ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق دو چشم دید گواہوں نے ملزم کے خلاف واضح بیانات دیے جبکہ مقتولہ کے گھر سے ملزم کے فنگر پرنٹس بھی برآمد ہوئے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ تفتیش کے دوران ملزم سے واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی اور پستول بھی برآمد کر لیا گیا، جس سے استغاثہ کا مقدمہ مزید مضبوط ہوا۔عدالت نے قرار دیا کہ ملزم نے صرف ملاقات سے انکار پر 17 سالہ معصوم لڑکی کو قتل کیا اور قتل کے پیچھے کوئی دوسرا محرک سامنے نہیں آیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم کسی قسم کی رعایت یا نرمی کا مستحق نہیں، لہٰذا اسے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 کے تحت سزائے موت سنائی جاتی ہے۔ فیصلے کے مطابق عدالت نے ملزم پر دو لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔
عدالت نے ملزم کو دیگر دفعات کے تحت بھی سزائیں سنائیں، جن میں دفعہ 392 کے تحت 10 سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ، دفعہ 499 کے تحت 10 سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانہ جبکہ دفعہ 411 کے تحت ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ شامل ہے۔
