گلوبل صمود فلوٹیلا کے مطابق اسرائیل کی جانب سے غزہ جانے والے امدادی قافلے کو روکنے اور درجنوں کارکنوں کو حراست میں لینے کے بعد کم از کم 87 کارکنوں نے بھوک ہڑتال شروع کر دی ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ بھوک ہڑتال اسرائیلی کارروائی کے خلاف احتجاج اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر کی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی جانب جانے والے آخری امدادی جہاز ’لینا النابلسی‘ کو بین الاقوامی پانیوں میں روک کر اس پر موجود افراد کو حراست میں لے لیا۔
فلوٹیلا منتظمین نے الزام عائد کیا ہے کہ کارروائی کے دوران اسرائیلی فورسز نے کشتیوں پر چھاپے مارے، ربڑ کی گولیاں استعمال کیں اور متعدد کارکنوں کو گرفتار کیا۔
یہ امدادی قافلہ گزشتہ ہفتے مارمارس سے روانہ ہوا تھا، جس میں 50 سے زائد کشتیوں اور جہازوں نے حصہ لیا تھا۔ مشن کا مقصد غزہ کی ناکہ بندی توڑ کر انسانی امداد پہنچانا تھا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ فلوٹیلا کے سینکڑوں کارکنوں کو اسرائیل منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ اس مشن کو ایک “تشہیری مہم” قرار دیا گیا ہے۔
فلوٹیلا میں مختلف ممالک کے شہری شامل تھے جن میں انڈونیشیا، آئرلینڈ، اسپین، ترکیہ، پاکستان، بنگلادیش اور برازیل سمیت دیگر ممالک کے کارکن موجود تھے۔
انڈونیشیا نے اپنے شہریوں کی گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ کئی ممالک نے اسرائیلی کارروائی کو بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
