بھارتی ریاست مغربی بنگال میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائی، درجنوں بنگلہ دیشی شہری عارضی مراکز میں منتقل

بھارتی ریاست مغربی بنگال میں بنگلہ دیش کی سرحد کے قریب سینکڑوں افراد کو بھارتی حکام نے حراست میں لے کر عارضی مراکز میں منتقل کر دیا ہے، جہاں ان کی شناخت اور وطن واپسی کے عمل کی جانچ جاری ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس اور مقامی پولیس نے 100 سے زائد مبینہ بنگلہ دیشی شہریوں کو شمالی 24 پرگنہ ضلع کے باسیرہاٹ سب ڈویژن میں مختلف عارضی مراکز میں منتقل کیا ہے۔

حکام کے مطابق ان افراد کے شناختی دستاویزات کی تصدیق کا عمل جاری ہے، جبکہ اس حوالے سے بارڈر گارڈ بنگلہ دیش کے ساتھ ابتدائی رابطہ بھی کیا گیا ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں بڑی تعداد میں افراد حکیم پور سرحدی علاقے کے قریب جمع ہوئے اور مبینہ طور پر بنگلہ دیش واپس جانے کی کوشش کی۔

انتظامیہ کے مطابق تقریباً 110 افراد کو ابتدائی پولیس جانچ کے بعد ایک سرکاری گیسٹ ہاؤس میں رکھا گیا ہے، جبکہ 100 سے زائد افراد کو ایک پرائمری اسکول میں منتقل کیا گیا ہے۔ مزید 170 افراد کو علاقے کے مختلف گھروں میں عارضی طور پر رکھا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد کی دستاویزات، شناخت اور پس منظر کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے، اور یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ آیا ان کے خلاف کسی قسم کے فوجداری مقدمات موجود ہیں یا نہیں۔

اگر ان کی بنگلہ دیشی شہریت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو انہیں باضابطہ فلیگ میٹنگ کے ذریعے بنگلہ دیشی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔

یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سرحدی علاقوں میں غیر قانونی امیگریشن اور نقل و حرکت کے خلاف نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے