ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے استعفے کی افواہیں مسترد کر دیں، کہا: "میں میدان میں ڈٹا ہوا ہوں”

ایرانی صدر پزشکیان کا ٹرمپ پر تنقید، “نو کنگز” مظاہرین کا حوالہ دے کر بیانیہ چیلنج کر دیا

تہران: ایرانی صدارتی دفتر نے صدر Masoud Pezeshkian کے استعفے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں اور افواہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صدر معمول کے مطابق اپنی آئینی اور انتظامی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

یہ وضاحت ان اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ایران کو درپیش سیاسی، معاشی اور سکیورٹی چیلنجز کے باعث صدر مسعود پزشکیان اپنے عہدے سے دستبردار ہو سکتے ہیں یا استعفے پر غور کر رہے ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق صدر پزشکیان نے براہ راست بیان میں کہا کہ "میں میدان میں ڈٹا ہوا ہوں اور کسی بھی واقعے کے لیے تیار ہوں”۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ موجودہ حالات میں اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے اور ملک کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لیے کام کرتے رہیں گے۔

صدر پزشکیان نے کہا کہ ایران اس وقت ایک مشکل اور چیلنجنگ مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق ملک کو معاشی دباؤ، سیاسی مسائل اور سکیورٹی کے مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم حکومت ان مسائل سے نمٹنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی حکومت شفافیت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور عوام کو درپیش مسائل کو حقیقت کے مطابق پیش کیا جاتا ہے۔ صدر کے مطابق عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ چیلنجز اور مشکلات کو چھپانے کے بجائے ان کے بارے میں کھل کر بات کی جائے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے