اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 15 رکنی سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشستوں کے لیے آسٹریا، کرغزستان، پرتگال، ٹرینیداد و ٹوباگو اور زمبابوے کو دو سالہ مدت کے لیے منتخب کر لیا ہے۔ منتخب ہونے والے ممالک یکم جنوری 2027 سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور 2028 کے اختتام تک سلامتی کونسل کا حصہ رہیں گے۔
193 رکنی جنرل اسمبلی میں ہونے والی خفیہ رائے شماری کے دوران یورپی گروپ کی دو نشستوں کے لیے سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، جہاں آسٹریا اور پرتگال کامیاب رہے جبکہ جرمنی مطلوبہ حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ نتائج کے مطابق پرتگال نے 134، آسٹریا نے 131 جبکہ جرمنی نے 104 ووٹ حاصل کیے۔
انتخابی نتائج کے بعد جرمن وزیر خارجہ Johann Wadephul نے کہا کہ یوکرین اور اسرائیل سے متعلق جرمنی کے واضح اور دوٹوک مؤقف نے بعض رکن ممالک کی حمایت حاصل کرنے میں مشکلات پیدا کیں۔ ان کے مطابق جرمنی نے ہمیشہ بین الاقوامی معاملات پر کھل کر اپنی پوزیشن بیان کی، تاہم تمام ممالک ان پالیسیوں سے متفق نہیں تھے۔
ایشیا پیسیفک گروپ کی نشست کے لیے ہونے والا مقابلہ سب سے زیادہ دلچسپ ثابت ہوا۔ کرغزستان اور فلپائن کے درمیان کئی مرحلوں پر مشتمل ووٹنگ کے بعد بالآخر کرغزستان نے دو تہائی اکثریت حاصل کرتے ہوئے کامیابی اپنے نام کر لی۔ کرغزستان نے 143 ووٹ حاصل کیے جبکہ فلپائن کو 49 ووٹ ملے۔ یہ کرغزستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ وہ سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا ہے۔
افریقی خطے کی نمائندگی کے لیے Zimbabwe جبکہ کیریبین خطے کی نمائندگی کے لیے Trinidad and Tobago بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔ اسی طرح Austria، Portugal اور Kyrgyzstan بھی سلامتی کونسل میں شامل ہوں گے۔
