حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی گاڑی پر ہونے والے اسرائیلی حملے کے بعد دو فوجی افسران اور ایک اہلکار کی ہلاکت کی ذمہ داری نہ صرف اسرائیل بلکہ لبنانی حکومت پر بھی عائد کر دی ہے۔
حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ لبنانی فوج کی گاڑی کو نشانہ بنانے والا حملہ ایک ’’دانستہ اور کھلا جرم‘‘ ہے، جو لبنان کے عوام، خصوصاً جنوبی علاقوں اور مغربی بقاع کے باشندوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے تسلسل کا حصہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس حملے میں دو فوجی افسران اور ایک اہلکار کی ہلاکت ایک افسوسناک واقعہ ہے، جس کی ذمہ داری قابض اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔ ساتھ ہی حزب اللہ نے الزام لگایا کہ لبنانی حکومت کی پالیسیوں اور بعض سیاسی فیصلوں نے بھی اسرائیل کو مزید جارحانہ اقدامات کا حوصلہ دیا ہے۔
حزب اللہ کے مطابق لبنانی ریاست اپنی خودمختاری کے تحفظ اور شہریوں کے جان و مال کے دفاع میں ناکام رہی ہے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ بعض حکومتی اقدامات اور بین الاقوامی دباؤ کے سامنے جھکاؤ نے اسرائیل کو لبنان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا موقع فراہم کیا۔
تنظیم نے اپنے بیان میں واشنگٹن کے ساتھ ہونے والی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ دشمن کے مطالبات کے سامنے نرم رویہ اختیار کرنے سے لبنان اور اس کی فوج کو نقصان پہنچا ہے۔
