اسرائیل پر جواب میزائل حملوں کے بعد ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برطانیہ، ترکیہ اور پاکستانی ثالثی کردار ادا کرنے والے حکام سے اہم رابطے کیے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگوؤں میں اپنے برطانوی اور ترک ہم منصبوں کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزارت کے بیان میں کہا گیا کہ بات چیت کے دوران لبنان میں جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں اور خطے میں پیدا ہونے والی سیکیورٹی صورتحال پر خصوصی توجہ دی گئی۔
بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستانی ثالثی کوششوں میں شامل حکام سے بھی رابطہ کیا اور موجودہ حالات کے مختلف پہلوؤں پر مشاورت کی۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے ان رابطوں کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران نے بیروت میں حزب اللہ کے مبینہ کمانڈ مراکز پر اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں شمالی اسرائیل کی جانب بیلسٹک میزائل داغنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے جبکہ مختلف ممالک جنگ کے دائرہ کار کو وسیع ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی رابطے تیز کر رہے ہیں۔
