پریٹوریا — جنوبی افریقا نے اسرائیل کے اعلیٰ سفارتکار آریل سیڈمین کو پرسونا نان گراٹا (ناپسندیدہ شخصیت) قرار دیتے ہوئے 72 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس فیصلے کا اعلان جنوبی افریقا کی وزارتِ خارجہ نے جمعے کو جاری کردہ ایک خصوصی بیان میں کیا۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ یہ سخت اقدام ایسے غیر معمولی اور ناقابل قبول واقعات کے بعد اٹھایا گیا ہے جنہوں نے دو طرفہ سفارتی اصولوں اور جنوبی افریقا کی خودمختاری کو نقصان پہنچایا۔
بیان کے مطابق اسرائیلی سفارتکار آریل سیڈمین نے سرکاری اسرائیلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جنوبی افریقا کے صدر سِریل راما فوسا کے خلاف توہین آمیز تبصرے کیے، جو سفارتی آداب کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
مزید یہ کہ آریل سیڈمین نے جنوبی افریقا کے اندر اپنے سرکاری دوروں سے متعلق اعلیٰ حکام کو مطلع نہیں کیا، جسے وزارتِ خارجہ نے اعتماد شکنی اور سفارتی پروٹوکول کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
جنوبی افریقا کی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ مذکورہ اقدامات ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں، اور ایسے رویے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
بیان میں اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مستقبل میں سفارتی رویے میں احترام، ذمہ داری اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کو یقینی بنائے۔
دوسری جانب اسرائیل نے جوابی اقدام کے طور پر جنوبی افریقا کے سفارتکار شاہان ایڈورڈ بائنیویلڈٹ کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
واضح رہے کہ جنوبی افریقا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہیں، جو جنوبی افریقا کی جانب سے غزہ میں مبینہ نسل کشی کے الزامات کے تحت اسرائیل کے خلاف عدالتِ بین الاقوامی انصاف میں دائر کیے گئے مقدمے کے بعد مزید بگڑ چکے ہیں۔
جنوبی افریقا طویل عرصے سے فلسطینی عوام کی حمایت کرتا آ رہا ہے، جبکہ اسرائیل ان الزامات کو مسلسل بے بنیاد قرار دیتا ہے۔
