اسلام آباد: سپریم کورٹ نے میکے سے پیسے منگوانے اور تشدد کرنے پرشوہرکو قتل کرنے والی خاتون کی عمر قید کی سزا 14 سال قید میں تبدیل کردی۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے قتل کیس کی سماعت کی۔
عدالت میں سماعت کے دوران وکیل صفائی نے کہا کہ بیروزگارشوہربیوی پرتشدد کرتا اور میکے سے پیسے مانگنے پرمجبور کرتا تھا، مجرمہ کے 4 بچے تھے، مجرمہ کی والدہ عموماً مالی مدد کردیتی تھیں، آخری بار مجرمہ کی والدہ نے پیسے دینے سے انکارکیا جس پرشوہر نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔
وکیل صفائی کا مزید کہنا تھا کہ مجرمہ کی عزت کو خطرہ تھا جس پر اس نے ردِعمل دیا، مجرمہ2016 سے جیل میں ہے اور تقریباً 10 سال قید کاٹ چکی ہے۔
پراسیکیوٹرنےکہا کہ مجرمہ نے شوہرکے سرپروارکیا جس کے نتیجے میں موت واقع ہوگئی، اس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ عموماً شوہربیوی کو قتل کرتا ہے، یہ پہلا کیس دیکھا ہے جس میں بیوی نے شوہرکوقتل کیا۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ کیس میں مجرمہ کے دوبھائی بھی نامزد تھے تاہم انہیں بری کردیا گیا۔
جسٹس ہاشم نے ریمارکس دیے کہ استغاثہ کے شواہد پرفیصلہ کیا جائے توکیس میں تینوں ملزمان بری ہوجاتے ہیں۔
عدالت نے سماعت کے بعد اپنا فیصلہ سناتے ہوئے مجرمہ افشاں سحرکی عمرقید کی سزا کم کرکے 14 سال قید میں تبدیل کردی۔
