اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد اسرائیل نے فی الحال اپنی جوابی کارروائیاں روک دی ہیں، تاہم تہران یا حزب اللہ کی جانب سے کسی بھی نئے حملے کی صورت میں سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
اپنے پہلے عوامی بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر حملوں کے بعد انہوں نے اسرائیلی فوج کو ایران بھر میں فوجی اور اقتصادی اہداف کو نشانہ بنانے کی ہدایت دی تھی۔ ان کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں کے بعد ایران نے حملے روک دیے ہیں، جس کے باعث اس محاذ پر فی الحال جنگی سرگرمیاں معطل ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران دوبارہ اسرائیل پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسرائیل پوری قوت کے ساتھ جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور حزب اللہ دونوں پہلے کے مقابلے میں کمزور جبکہ اسرائیل پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکا ہے، تاہم ان کے خلاف جاری جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ فوج جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی، جن میں زیر زمین عسکری تنصیبات اور دیگر اہم مراکز شامل ہیں۔
نیتن یاہو نے الزام عائد کیا کہ ایران اور حزب اللہ اسرائیل کے خلاف ایک نئی عسکری مساوات قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جس کے تحت وہ لبنان اور ایران سے حملے کریں اور اسرائیل خاموش رہے، لیکن اسرائیل نے اس حکمت عملی کو مسترد کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اپنے دفاع کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے اور جب بھی ضرورت پڑی اس حق کو استعمال کرے گا۔ نیتن یاہو کے مطابق انہوں نے یہی مؤقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ حالیہ گفتگو میں بھی دہرایا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب کے بعد صحافیوں کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے گزشتہ کئی ماہ کے دوران مقامی صحافیوں کے لیے کوئی باضابطہ پریس کانفرنس نہیں کی، البتہ متعدد غیر ملکی میڈیا اداروں کو انٹرویوز دیے ہیں۔
