اقتصادی سروے 26-2025 کے مطابق اس غیر معمولی آفت نے ملکی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا، جس کے باعث حکومت کو حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد سے کم کرکے 3.5 سے 3.9 فیصد کے درمیان مقرر کرنا پڑا۔
سیلاب کو پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک بڑا منفی عنصر قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ تاریخی مون سون کے نتیجے میں انسانی اور معاشی نقصانات انتہائی سنگین رہے، یہ سیلاب جولائی سے ستمبر 2025 کے دوران غیر معمولی بارشوں کے باعث آئے۔ اس عرصے میں ملک بھر میں اوسط بارش 172.8 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جو معمول کی 140.9 ملی میٹر بارش سے 23 فیصد زیادہ تھی۔
پنجاب سب سے زیادہ متاثر
بحران اگست کے آخری ہفتے میں شدت اختیار کر گیا جب گلیشیئرز کے تیز پگھلاؤ اور شدید مون سون بارشوں نے دریائے ستلج، راوی اور چناب میں بیک وقت سیلابی صورتحال پیدا کر دی، اس مشترکہ سیلابی ریلے نے پنجاب میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔
سیلاب سے پنجاب میں 631 ارب روپے کا نقصان ہوا، جو ملک بھر کے مجموعی نقصانات کا 76 فیصد سے زائد ہے، اسی صوبے میں سیلاب سے ہونے والی 77 فیصد اموات اور بے گھر ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
اقتصادی سروے کے مطابق ملک بھر میں بنیادی ڈھانچے کو 307 ارب روپے کا نقصان پہنچا، سڑکوں کے نیٹ ورک کو 187 ارب روپے، رہائشی شعبے کو 91 ارب روپے، پلوں، آبی ڈھانچے اور توانائی کے نظام کو 28 ارب روپے سے زائد نقصان ہوا۔
سروے کے مطابق مجموعی طور پر 2 لاکھ 29 ہزار 763 مکانات شدید متاثر ہوئے یا مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔
سیلاب نے روزگار کے شعبے کو بھی شدید متاثر کیا اور 2 لاکھ سے زائد افراد اپنی ملازمتوں سے محروم ہو گئے، جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔
زراعت سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شعبہ ثابت ہوئی، جسے 430 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا، صرف فصلوں کو 422 ارب روپے کا نقصان پہنچا، جبکہ کپاس اور چاول سب سے زیادہ متاثر ہونے والی فصلیں تھیں۔
زراعت کی غیر متوقع بحالی
شدید نقصانات کے باوجود زرعی شعبے نے غیر معمولی مزاحمت کا مظاہرہ کیا اور مالی سال 2026 میں 2.89 فیصد ترقی ریکارڈ کی، بروقت حکومتی امدادی اقدامات اور معاونت کی وجہ سے فصلوں کے شعبے نے 1.44 فیصد نمو حاصل کی، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہی شعبہ 1.01 فیصد سکڑ گیا تھا۔
سروے میں بین الاقوامی ادارے EM-DAT (انٹرنیشنل ڈیزاسٹر ڈیٹا بیس) کا حوالہ بھی دیا گیا، جس نے دسمبر 2025 کی اپنی رپورٹ میں تقریباً یہی اعداد و شمار پیش کیے تھے۔
ادارے کے مطابق مجموعی نقصان تقریباً 3 ارب ڈالر، اموات 1,037 ہوئیں، متاثرہ افراد 69 لاکھ ہیں۔
سیلاب کے بعد حکومتی اداروں اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں نے بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں شروع کیں، پی پی اے ایف نے 2.747 ارب روپے تقسیم کیے، جس سے ایک لاکھ 36 ہزار 700 سے زائد مستحق خاندانوں کو مدد فراہم کی گئی۔
ہنگامی امدادی کارروائیوں کے اختتام کے بعد حکومت نے اب اپنی توجہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور قدرتی آفات کے مقابلے کی تیاری پر مرکوز کر دی ہے، حفاظتی پشتوں کی بحالی، چھوٹے ڈیموں کی تعمیر، سیلابی میدانوں میں تعمیرات کے ضوابط پر سخت عمل درآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔
سروے کے مطابق حکومت کا مقصد مستقبل میں سیلاب کے خطرات اور نقصانات کو کم کرنا ہے۔
