چین نے ایک امریکی شہری اور معروف سیاسی تجزیہ کار کو جاسوسی اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات کے تحت حراست میں لینے کی تصدیق کر دی ہے، جس سے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان ایک نیا سفارتی معاملہ سامنے آ گیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان Lin Jian نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ من زِن نامی محقق کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے اور انہیں مجرمانہ تحقیقات کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق Min Zin امریکی اور میانماری شہریت رکھتے ہیں اور وہ میانمار کی سیاست، قدرتی وسائل اور جاری تنازعات پر تحقیق کرنے والے ادارے Institute for Strategy and Policy Myanmar کے بانیوں میں شامل ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق من زِن 3 جون کو چین کے صوبہ یونان کے سرحدی شہر Kunming میں لاپتا ہو گئے تھے۔ بعد ازاں چینی حکام نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ معاملے سے متعلق امریکی حکام کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اس کیس کے بارے میں United States Consulate General Guangzhou کو باضابطہ اطلاع دی جا چکی ہے اور تمام قانونی کارروائی چینی قوانین کے مطابق انجام دی جا رہی ہے۔
من زِن کو میانمار میں 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال، مسلح تنازعات اور جمہوری تحریکوں پر تحقیق کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر ایک معتبر آواز سمجھا جاتا ہے۔ وہ تعلیمی سرگرمیوں کے سلسلے میں بھی وابستہ رہے ہیں اور امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق University of California, Berkeley میں سیاسیات کے شعبے میں پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔
تاہم یہ تاحال واضح نہیں ہو سکا کہ گرفتاری کے وقت وہ چین میں کس مقصد کے لیے موجود تھے یا ان کے خلاف الزامات کی تفصیلات کیا ہیں۔
