Iran کے صدارتی دفتر نے واضح کیا ہے کہ انصاف، وقار اور دانشمندی کی بنیاد پر مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ ایرانی صدارتی ترجمان Mehdi Tabatabaei نے ملکی قیادت میں اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قیادت کے اندر مکمل اتحاد موجود ہے۔
ترجمان نے امریکی قیادت کا نام لیے بغیر کہا کہ مخالف فریق سیاسی پروپیگنڈا کر رہا ہے اور جھوٹے بیانیے گھڑ رہا ہے، جبکہ اسے اپنی وعدہ خلافی، دباؤ اور دھمکیوں کا سلسلہ بند کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق حقیقی مذاکرات صرف اسی صورت ممکن ہیں جب انہیں انصاف اور باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے۔
دوسری جانب ایرانی صدر Masoud Pezeshkian نے اپنے بیان میں کہا کہ وعدہ خلافی، ناکہ بندی اور دھمکیاں کسی بھی بامعنی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ہمیشہ مذاکرات اور معاہدوں کا حامی رہا ہے، تاہم عملی اقدامات اور بیانات میں تضاد عالمی برادری کے سامنے واضح ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر Donald Trump نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور جلد ممکن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ Strait of Hormuz میں ناکہ بندی برقرار رکھی جائے اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہا جائے، جبکہ جنگ بندی کو ایران کی جانب سے تجاویز آنے تک بڑھایا جا رہا ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان Karoline Leavitt نے بھی کہا ہے کہ ایران کے ساتھ غیر معینہ مدت تک جنگ بندی نہیں کی گئی بلکہ اسے چند دن دیے گئے ہیں تاکہ وہ متفقہ تجاویز پیش کرے۔
