ایرانی قومی سلامتی کونسل نے ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے متن کو حتمی شکل دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو کیے جائیں گے۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت لبنان سمیت مختلف محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر روک دی جائیں گی۔ بیان کے مطابق ایران کے خلاف عائد بحری ناکہ بندی بھی فوری اور مکمل طور پر ختم کی جائے گی۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ Kazem Gharibabadi نے کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی آج رات سے ختم ہونا شروع ہو جائے گی جبکہ مفاہمتی یادداشت کا مکمل متن دستخط کے بعد عوام کے سامنے لایا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران معاہدے پر عمل درآمد جمعے سے شروع کرے گا۔
کاظم غریب آبادی نے واضح کیا کہ مفاہمتی یادداشت کا مقصد کسی فریق پر اندھا اعتماد کرنا نہیں بلکہ ایک منظم سفارتی عمل کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ حتمی اور جامع معاہدے کے لیے آئندہ 60 روز تک مذاکرات جاری رہیں گے۔
ان کے مطابق مستقبل کے مذاکرات میں اقتصادی پابندیوں کے خاتمے، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگ کے اثرات، بحری ناکہ بندی کے مستقل خاتمے اور تعمیرِ نو کے طریقہ کار پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ 60 روزہ مذاکراتی عمل کے دوران جوہری پروگرام سے متعلق امور بھی زیر بحث آئیں گے اور مذاکرات میں بین الاقوامی ثالثوں کی موجودگی برقرار رہے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو ایران مناسب ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
کاظم غریب آبادی کا کہنا تھا کہ ایران کی دفاعی اور فوجی صلاحیت نے مذاکراتی عمل میں اہم کردار ادا کیا اور تہران نے اس وقت تک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق نہیں کیا جب تک اس کے بنیادی مطالبات متن کا حصہ نہیں بن گئے۔
