ایران ڈیل پر امریکا اسرائیل اختلافات نمایاں، ٹرمپ نے ٹیلی فون کال میں نیتن یاہو کو شکر گزار ہونے کا مشورہ دے دیا

نیتن یاہو کی ایران مذاکرات میں مطالبات کی تفصیلات، جوہری اور بیلسٹک پروگرام پر پابندیوں کا عندیہ

امریکی صدر Donald Trump اور اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu کے درمیان ایران سے متعلق جاری سفارتی پیش رفت پر اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے وزیراعظم نیتن یاہو کو ایران کے ساتھ مذاکرات اور ممکنہ معاہدے سے متعلق تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران سے متعلق کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کا فریق نہیں بنے گا اور اپنی قومی سلامتی کے فیصلے خود کرے گا۔

اس سے قبل نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے آزادانہ فیصلے کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ایران کے حوالے سے کسی بھی سمجھوتے میں شامل ہونا ضروری نہیں سمجھتا۔

دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران امریکا کے ساتھ حتمی جوہری معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہا تو واشنگٹن دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ موجودہ معاہدہ بالآخر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ Strait of Hormuz عالمی بحری تجارت کے لیے مستقل طور پر "ٹول فری” رہے اور توانائی کی ترسیل بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔

امریکی صدر نے انٹرویو میں نیتن یاہو کے بارے میں غیرمعمولی انداز اپناتے ہوئے انہیں "بہت مشکل آدمی” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم کو امریکا کا شکر گزار ہونا چاہیے کیونکہ ان کے بقول اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا تو اسرائیل کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی سفارتی پیش رفت خطے میں استحکام لانے کی کوشش ہے، تاہم اگر تہران اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے