قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی یرغمالیوں کی ایک نئی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے، جس میں انہوں نے اپنی ابتر صورتحال بیان کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
ویڈیو پیغام میں ایک یرغمال پاکستانی نے کہا کہ انہیں قید ہوئے 57 دن گزر چکے ہیں لیکن اب تک ان کی رہائی کے لیے کوئی مؤثر پیش رفت سامنے نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ شپنگ کمپنی صومالی قزاقوں کے ساتھ بات چیت کرنے پر آمادہ نہیں جبکہ قزاقوں کی جانب سے مذاکرات کے لیے نامزد شخص سے بھی کوئی رابطہ نہیں کیا جا رہا۔
یرغمالی نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے میں براہِ راست کردار ادا کرے اور شپنگ کمپنی کو مذاکرات پر آمادہ کرے تاکہ ان کی محفوظ رہائی ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سے بھی اپیل کی کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری اقدامات کیے جائیں اور کمپنی پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ مذاکرات کا عمل شروع ہو سکے۔
ویڈیو میں یرغمالیوں نے اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان میں سے متعدد افراد بیمار ہیں اور انہیں مناسب طبی سہولیات میسر نہیں۔ ان کے مطابق خوراک کی شدید قلت ہے جبکہ پینے کے لیے غیر معیاری اور آلودہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ان کی صحت تیزی سے متاثر ہو رہی ہے۔
یرغمال پاکستانیوں کا کہنا تھا کہ حالات روز بروز خراب ہوتے جا رہے ہیں اور قید کی طویل مدت نے ان کی ذہنی اور جسمانی حالت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں زندگی انتہائی دشوار محسوس ہو رہی ہے اور فوری امداد نہ ملی تو حالات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یرغمالیوں کے اہل خانہ بھی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں اور اپنے پیاروں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاحال پاکستانی حکام یا متعلقہ شپنگ کمپنی کی جانب سے اس تازہ ویڈیو پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
