امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں سے عرب ممالک میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصان کے بعد واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی اور فوجی اڈوں کے مستقبل پر نظرثانی کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا بعض فوجی اڈوں اور حساس تنصیبات کو خطے سے منتقل کرنے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ ان میں مغربی ممالک میں تنصیبات منتقل کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ فوجی اثاثے اسرائیل منتقل کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے تاکہ خطے میں امریکی دفاعی صلاحیت برقرار رکھی جا سکے۔
اخبار کے مطابق ایران نے 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی کارروائیوں کے جواب میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین سمیت عرب ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں 13 امریکی اہلکار ہلاک جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے۔ مزید یہ کہ متعدد فوجی تنصیبات، مواصلاتی نظام اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق بحرین میں قائم امریکی بحریہ کے نیول سپورٹ ایکٹیویٹی بحرین اڈے کو تقریباً 400 ملین ڈالر کا نقصان پہنچا، تاہم امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے نقصانات کی مکمل تفصیلات عوامی سطح پر جاری نہیں کیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نقصان کا تخمینہ سیٹلائٹ تصاویر، سوشل میڈیا پر دستیاب شواہد اور سرکاری تعمیراتی اخراجات کی بنیاد پر لگایا گیا ہے، جبکہ حساس عسکری آلات اور جدید مواصلاتی نظام کی تباہی کی مالیت اس اندازے میں شامل نہیں، جس سے حقیقی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔
امریکی تھنک ٹینک سی ایس آئی ایس (CSIS) کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں تباہ ہونے والے صرف دو سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز کی مالیت تقریباً 40 ملین ڈالر تھی۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں سے امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر، فوجی بیرکوں، گوداموں اور پانی ذخیرہ کرنے کی سہولیات کو بھی نقصان پہنچا، تاہم اس مخصوص اڈے پر کسی امریکی اہلکار کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔
اخبار کا کہنا ہے کہ امریکی حکام بحرین میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی مکمل تعمیر نو کے بجائے اہم کمانڈ سینٹرز کو زیر زمین منتقل کرنے اور بعض عمارتوں کو دوبارہ تعمیر نہ کرنے جیسے متبادل منصوبوں پر غور کر رہے ہیں۔
اسی طرح امریکا کویت اور سعودی عرب میں اپنی فوجی موجودگی محدود کرنے کا بھی جائزہ لے رہا ہے، کیونکہ ان ممالک میں واقع امریکی تنصیبات بھی ایرانی حملوں کی زد میں آئی تھیں۔ اس کے برعکس، بعض فوجی وسائل اسرائیل منتقل کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جہاں ایران جنگ سے قبل تعینات کیے گئے متعدد امریکی جنگی طیارے اب بھی موجود ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے اخراجات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نہ صرف اپوزیشن بلکہ اپنی جماعت کے بعض ریپبلکن اراکین کی تنقید کا بھی سامنا ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ جنگ کے بعد دفاعی صلاحیتوں کی بحالی کے لیے تقریباً 80 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
