اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے فریم ورک معاہدے کے اعلان کے چند ہی گھنٹوں بعد لبنان کے مختلف شہروں، خصوصاً دارالحکومت بیروت میں اس معاہدے کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے۔
لبنانی سرکاری خبر رساں ایجنسی (این این اے) اور فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حزب اللہ کے حامی موٹرسائیکلوں پر سوار ہو کر بیروت کی سڑکوں پر نکل آئے اور معاہدے کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے مختلف مقامات پر ٹائر نذرِ آتش کرکے اہم شاہراہوں کو بند کر دیا، جبکہ متعدد شرکاء حزب اللہ اور ایران کے پرچم بھی لہراتے رہے۔
رپورٹس کے مطابق احتجاجی ریلیاں پارلیمنٹ کے اطراف، جنوبی بیروت اور بیروت ایئرپورٹ جانے والی مرکزی شاہراہ سمیت مختلف علاقوں میں نکالی گئیں، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔
اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق احتجاج کے دوران موٹرسائیکلوں کے قافلے شہر کی مختلف سڑکوں سے گزرے، جہاں مظاہرین نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے نعرے لگائے۔ صورتحال کے پیش نظر لبنانی فوج نے دارالحکومت کی مختلف اہم شاہراہوں اور حساس مقامات پر عارضی چوکیاں قائم کر دیں تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔
احتجاج کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والا معاہدہ لبنان کے قومی مفادات کے خلاف ہے اور اسرائیلی افواج کو کسی بھی شرط کے بغیر مکمل طور پر لبنانی سرزمین سے انخلا کرنا چاہیے۔
