ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن کے خلاف کارروائی مزید سخت کر دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اب تک ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔
محکمہ خارجہ نے بتایا کہ ویزا منسوخی کی مختلف وجوہات سامنے آئی ہیں۔ ان میں جرائم، ویزا قوانین کی خلاف ورزی اور امیگریشن فراڈ شامل ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق بعض افراد پر حملہ، چوری اور منشیات سے متعلق مقدمات تھے۔
نشے کی حالت میں ڈرائیونگ بھی ویزا منسوخی کی ایک وجہ بنی۔ جنسی جرائم اور بچوں سے بدسلوکی کے معاملات میں بھی کارروائی کی گئی۔
محکمہ خارجہ نے فراڈ کے بعض کیسز میں بھی ویزے منسوخ کیے۔ حکام نے قومی سلامتی کے خطرات سے متعلق افراد کے خلاف بھی کارروائی کی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی صرف جرائم تک محدود نہیں ہے۔
امیگریشن نظام کے غلط استعمال میں ملوث افراد بھی اس پالیسی کی زد میں آئے ہیں۔ بعض کیسز میں ویزا قوانین کی خلاف ورزی بھی سامنے آئی۔
محکمہ خارجہ نے بتایا کہ ویزا جانچ کا عمل مسلسل جاری ہے۔ اس عمل کے تحت نئے کیسز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امیگریشن پر سخت پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی ویزا جانچ کے عمل کو مزید سخت کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ محکمہ خارجہ کے مطابق امریکی حکام ایسے افراد کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے جو امریکی شہریوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے رواں سال جنوری میں بتایا تھا کہ 2025 کے دوران ایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کیے گئے تھے۔
نئے اعداد و شمار کے بعد مجموعی تعداد ایک لاکھ 75 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ تعداد امریکی ویزا جانچ میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔
