امریکی نیوز ویب سائٹ Axios نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران نے باہمی فوجی کارروائیاں روکنے اور آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع کے حل کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منگل کے روز اعلیٰ سطحی مذاکرات پر اتفاق کر لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب حالیہ امریکی حملوں، جنگ بندی سے متعلق اختلافات اور مفاہمتی یادداشت (MoU) کی مختلف تشریحات کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے۔
Axios کے حوالے سے ایک سینئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ واشنگٹن اور تہران نے باہمی طور پر تمام فوجی کارروائیاں روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عہدیدار کے مطابق دونوں فریق اس مرحلے پر کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کرنا چاہتے ہیں تاکہ سفارتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
ایک دوسرے امریکی عہدیدار نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ فی الحال دونوں ممالک آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آزادانہ اور محفوظ آمدورفت برقرار رکھنے پر متفق ہیں، جبکہ تکنیکی مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
یہ پیش رفت اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے کہا تھا کہ ایران نے اتوار کو ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں شرکت نہیں کی کیونکہ اس کے مطابق امریکا نے حالیہ فوجی حملوں کے ذریعے مفاہمتی یادداشت کی بعض اہم شقوں کی خلاف ورزی کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق منگل کو دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کا بنیادی مرکز آبنائے ہرمز ہوگا، جہاں دونوں فریق سمندری راستے سے متعلق باقی ماندہ اختلافات دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کو ابھی صرف گیارہ روز ہوئے ہیں، تاہم حالیہ فضائی حملوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات نے جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے تھے۔
ذرائع کے مطابق موجودہ اختلافات کی ایک بڑی وجہ مفاہمتی یادداشت کی مختلف تشریحات ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور بحری نگرانی کے حوالے سے دونوں ممالک کے مؤقف میں نمایاں فرق موجود ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت میں تعاون کرنے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ اس کے بدلے امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری پابندیوں میں نرمی کی تھی۔
اسی دوران گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں امریکی وفد اور ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے امریکی فوج اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے درمیان براہِ راست ہاٹ لائن قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا، تاہم رپورٹ کے مطابق یہ رابطہ نظام تاحال فعال نہیں ہو سکا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ منگل کا اجلاس ابتدا میں ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ میں ہونا تھا، لیکن حالیہ علاقائی کشیدگی کے بعد اس کا مقام تبدیل کرکے قطر منتقل کر دیا گیا، جہاں اب مذاکرات کا مرکزی موضوع آبنائے ہرمز کی سکیورٹی، جنگ بندی پر عملدرآمد اور کشیدگی میں کمی ہوگا۔
