سرینگر: بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں بھارتی فوج اور مقامی پولیس کے درمیان کشیدگی کا ایک غیر معمولی واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں پولیس نے فوج کے ایک میجر، کمانڈنگ آفیسر اور دیگر اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
بھارتی اخبار The Hindu کی رپورٹ کے مطابق ضلع کشتواڑ کے اتھولی پولیس اسٹیشن میں 17 راشٹریہ رائفلز سے تعلق رکھنے والے درجنوں فوجی اہلکار مبینہ طور پر پولیس اسٹیشن کی چار دیواری عبور کرکے اندر داخل ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق اسلحہ اور لاٹھیوں سے لیس تقریباً 40 فوجی اہلکاروں نے پولیس اسٹیشن میں داخل ہونے کے بعد مبینہ طور پر توڑ پھوڑ کی اور ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں سے بدسلوکی کی۔
پولیس کی جانب سے درج کی گئی ابتدائی رپورٹ (FIR) میں میجر، کمانڈنگ آفیسر اور دیگر فوجی اہلکاروں پر اقدامِ قتل، حملہ اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق پولیس کا مؤقف ہے کہ حملہ پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا اور حملہ آور اہلکاروں کا مقصد ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو نقصان پہنچانا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں پولیس اور بھارتی فوج یا نیم فوجی دستوں کے درمیان اس نوعیت کے تنازعات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں، تاہم اس مرتبہ پولیس کی جانب سے فوجی افسران کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کو ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تاحال بھارتی فوج کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
