او آئی سی کی اسرائیلی ’مؤذن بل‘ کی شدید مذمت، اذان پر پابندی کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار

او آئی سی نے مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت، فلسطینی حقوق کی بحالی اور یروشلم کی مرکزیت پر زور

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں پیش کیے گئے متنازع ’مؤذن بل‘ کی ابتدائی منظوری پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی، عبادت کے حق اور اسلامی شعائر پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔

او آئی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ مجوزہ قانون امتیازی اور نسل پرستانہ قانون سازی کی ایک واضح مثال ہے، جو مسلمانوں کے بنیادی مذہبی حقوق اور عبادت کی آزادی کی صریح خلاف ورزی کرتا ہے۔

تنظیم کے مطابق یہ اقدام صرف اذان تک محدود نہیں بلکہ فلسطینی عوام کی شناخت، عرب اور اسلامی تشخص کو محدود کرنے کی ایک وسیع پالیسی کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ او آئی سی نے کہا کہ ایسی قانون سازی خطے میں مذہبی ہم آہنگی اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

او آئی سی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مذہبی رسومات اور اسلامی مقدس مقامات کو نشانہ بنانے والے اقدامات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ نے بدھ کے روز ابتدائی ووٹنگ میں نام نہاد ’مؤذن بل‘ کی منظوری دی، جس کے حق میں 50 جبکہ مخالفت میں 36 ارکان نے ووٹ دیا۔

مجوزہ قانون کے تحت ملک بھر کی مساجد میں لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال اور آواز کی سطح کو محدود کیا جائے گا۔ تاہم اس بل کو باقاعدہ قانون بننے کے لیے مزید تین پارلیمانی مراحل سے گزرنا ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے