کراچی: سمندر میں گرنے والے نجی کارگو طیارے کے لاپتا ارکان کے گھر والے غم سے نڈھال

کراچی: سمندر میں گرنے والے نجی کارگو طیارے کے لاپتا ارکان کے گھر والے غم سے نڈھال ہیں، عملے کے ارکان کے اہل خانہ کو طیارے کے لاپتا ہونے کا علم میڈیا کے ذریعے ہوا ۔

 نجی کارگو کمپنی کے سمندر میں گر کر تباہ ہونے والے طیارے کے لاپتا 5 ارکان کے گھر ان کے رشتہ داروں اور دوستوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے ۔

عملے کے ارکان کے اہل خانہ کو طیارے کے لاپتا ہونے کا علم میڈیا کے ذریعے ہوا ۔

نجی کارگو کمپنی کے بوئنگ 737 طیارے کے کیپٹن رضوان ادریس فائٹر پائلٹ تھے ۔ پاکستان ائیرفورس سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے کمرشل ایوی ایشن کو جوائن کیا ، وہ ایک انتہائی تجربہ کار پائلٹ تھے ، ان دنوں کیپٹن رضوان نجی کارگو کمپنی کا طیارہ آپریٹ کر رہے  تھے۔

کیپٹن رضوان 5 بچوں کے باپ ہیں ، ان کے 2  بیٹے بیرون ملک زیر تعلیم ہیں ، ان کے بچوں نے بتایا کہ ان کا والد سے آخری رابطہ کل شام 7  بجے ہوا تھا۔

سمندر میں گر کر تباہ ہونے والے طیارے میں سوار ائیرکرافٹ انجینیئر محمد عارف صدیقی پی آئی اے سے ڈپٹی چیف انجینیئر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے ۔ انجینیئر عارف صدیقی 8  بچوں کے باپ ہیں ۔

عارف صدیقی ان دنوں طیاروں کی منٹیننس کرنے والی نجی کمپنی سے وابستہ تھے ۔انہوں نے شارجہ سے روانگی سے پہلے اہلیہ کو فون کرکے کراچی روانگی کی اطلاع دی تھی۔

واضح رہے کہ بحیرہ عرب میں گر کر تباہ ہونے والے طیارے کا ملبہ مل گیا ہے لیکن ابھی تک طیارے کے پائلٹ کیپٹن رضوان ادریس ، فرسٹ آفیسر فیصل محمود جتوئی ، ائیرکرافٹ انجینیئرز محمد عارف صدیقی محمد حامد خان اور لوڈ ماسٹر محمد توفیق خان کی تلاش جاری ہے۔ جہاز کے تمام عملے کا تعلق کراچی سے ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے