قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی تصدیق قطری امیری دیوان کی جانب سے جاری بیان میں کی گئی۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی 1995 سے 2013 تک قطر کے امیر رہے۔ انہوں نے 2013 میں رضاکارانہ طور پر اقتدار اپنے صاحبزادے اور موجودہ امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے حوالے کر دیا تھا، جسے عرب دنیا میں اقتدار کی پرامن منتقلی کی ایک اہم مثال قرار دیا جاتا ہے۔
شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے دورِ حکومت میں قطر نے معاشی، سفارتی اور ترقیاتی شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی۔ قدرتی گیس کے وسیع ذخائر سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مؤثر انداز میں استعمال کرتے ہوئے قطر دنیا کے خوشحال اور امیر ترین ممالک میں شامل ہوا، جبکہ عالمی سفارت کاری، سرمایہ کاری، تعلیم، کھیل اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سابق امیر قطر کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی نے پاکستان اور قطر کے دوستانہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
