فریقین اسلام آباد ایم او یو کے تحت کشیدگی میں کمی کا راستہ اختیار کریں،اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ فریقین اسلام آباد ایم او یو کے تحت کشیدگی میں کمی کا راستہ اختیار کریں، تنازعات کے حل کا واحد قابل عمل راستہ مذاکرات اورسفارتکاری ہے۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار سے سعودی سفیرنواف بن سعید احمد المالکی کی ملاقات ہوئی، جس میں علاقائی اورامن و استحکام کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ جس میں بدلتی علاقائی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق سعودی سفیرسے ملاقات میں اسحاق ڈار نے مذاکرات اور سفارت کاری کے فروغ کیلئے کوششیں مزید مستحکم کرنے پر زوردیا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مزید مضبوط کرنے کےعزم کا اعادہ کیا۔

اس سے قبل اسحاق ڈار اور ایرانی وزیرخارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ اسحاق ڈار نےکہا فریقین اسلام آباد ایم اویو کےتحت کشیدگی میں کمی اورتحمل کا راستہ اختیارکریں۔ کہا تنازعات کے حل کا واحد قابل عمل راستہ مذاکرات اورسفارتکاری ہے۔

واضح رہے کہ امریکی فوجی کی مرکزی کمان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کے تیسرے مرحلے میں تقریباً 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ نئے حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں ایک اور تجارتی جہاز پر حملے کے بعد ایرانی افواج کو جواب دہ ٹھہرانا تھا۔ سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج نے لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جہازوں کے ذریعے داغے گئے ہتھیاروں سے ایران کو نشانہ بنایا۔

سینٹ کام کے مطابق، رواں ہفتے کے دوران کیے گئے تین حملوں میں ایران کے 300 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاکہ آبنائے ہرمز سے آزادانہ طور پر گزرنے والے بحری جہازوں پر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔

دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکی مداخلت کے خاتمے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایک بحری جہاز غیرمنظور شدہ راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، جس پر کارروائی کی گئی،موجودہ صورتحال میں کسی بھی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اگر دشمن نے کوئی غلط قدم اٹھایا تو اسے سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑے گا

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے