مانسہرہ میں 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے میں لاپتا ہونے والے چار سالہ بچے کی باقیات تقریباً 21 سال بعد برآمد کر لی گئیں۔
بچےکےوالد قاری شفیق الرحمان کےمطابق انکا بیٹا جمال شفیق زلزلے کےدوران ملبے تلے دب کر لاپتا ہوگیا تھا،حال ہی میں مکان کی تعمیر کے دوران ملبہ ہٹاتے ہوئے انسانی باقیات ملیں،جن کی شناخت کپڑوں اور جوتوں کی مدد سے کی گئی۔
قاری شفیق الرحمان کا کہنا ہےکہ زلزلے کے بعد کئی ماہ تک اپنے بیٹے کی تلاش جاری رکھی، مگر اس وقت اس کی لاش نہیں مل سکی،اتنے برس بعد باقیات ملنے پر بھی وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔
بچے کے والد نے بتایا کہ زلزلے میں خاندان کے 8 افراد شہید ہوئے تھے،ننھےجمال کو قریبی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔
