بنگلہ دیش میں سابق صدر ضیاء الرحمان کے قتل کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ قتل میں ملوث ایک اہم ملزم کو 45 سال بعد دارالحکومت ڈھاکہ سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ڈھاکہ سے ذرائع کے مطابق ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس (ڈی بی) نے جمعرات کی شام بنانی ڈی او ایچ ایس کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے میجر (ریٹائرڈ) مظفر حسین کو حراست میں لیا۔
ڈیٹیکٹو برانچ کے ایڈیشنل پولیس کمشنر محمد شفیق الاسلام نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد اسے بنگلہ دیشی فوج کے حوالے کیا جائے گا تاکہ اس کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق، میجر (ریٹائرڈ) مظفر حسین پر الزام ہے کہ انہوں نے 30 مئی 1981 کو چٹاگانگ کے سرکٹ ہاؤس میں اس وقت کے صدر ضیاء الرحمان کو شناخت کرنے کے بعد ان پر براہِ راست فائرنگ کی تھی۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق قتل کے بعد ملزم ملک سے فرار ہوگیا تھا اور اس کی گرفتاری پر انعام بھی مقرر کیا گیا تھا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ طویل عرصے تک بھارت میں روپوش رہا اور بعد ازاں مختلف فرضی ناموں سے سرحد پار کر کے بنگلہ دیش آتا جاتا رہا۔
