چین نےامریکی انتخابات میں مداخلت کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔
بیجنگ میں میڈیا بریفنگ کے دوران چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ امریکا کی جانب سے لگائے گئے الزامات حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ چین کو بدنام کرنے کی ایک اور کوشش ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ چین دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اسے امریکی انتخابات میں مداخلت کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔
یہ ردعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ 2020 کے انتخابی دور کے آغاز سے چین نے تقریباً 22 کروڑ امریکی ووٹرز کا ڈیٹا حاصل کیا، جسے انہوں نے امریکی انتخابی تاریخ میں ڈیٹا کی سب سے بڑی خلاف ورزی قرار دیا۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کی انتظامیہ ایسی خفیہ معلومات کو ڈی کلاسیفائی کر رہی ہے جن کے مطابق غیر ملکی مداخلت اور امریکی انتخابی نظام میں کمزوریاں موجود تھیں۔
چینی ترجمان لن جیان نے کہا کہ اس نوعیت کے الزامات ماضی میں بھی کئی مرتبہ لگائے گئے لیکن ان کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ باہمی احترام اور عدم مداخلت کے اصولوں پر قائم رہا ہے۔
لن جیان نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر وہ کون سا ملک ہے جو دنیا بھر میں حکومتوں، کمپنیوں اور عام شہریوں کی نگرانی کرتا رہا ہے اور بڑے پیمانے پر دیگر ممالک کے شہریوں کا ڈیٹا جمع کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔
