نیدرلینڈز کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ 22 ستمبر سے اسرائیلی آبادکاروں کے زیرِ قبضہ فلسطینی علاقوں سے آنے والی مصنوعات کی درآمد، خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔
العربیہ کے مطابق اس فیصلے کے بعد نیدرلینڈز، آئرلینڈ، بیلجیئم اور اسپین کے بعد یورپی یونین کا ایک اور ملک بن گیا ہے جس نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی آبادکاریوں سے تجارت پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈچ وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے تحت نیدرلینڈز کی اس ذمہ داری کا حصہ ہے کہ وہ غیر قانونی صورتِ حال میں کسی بھی قسم کی شمولیت سے گریز کرے۔
وزارت کے مطابق پابندی کا اطلاق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی آبادکاریوں سے پیدا ہونے والی اشیا کی درآمد، خرید اور فروخت پر ہوگا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد پر یورپی یونین کے اندر اسرائیل کے خلاف مزید سخت اقدامات کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے، تاہم 27 رکنی یورپی یونین کے تمام رکن ممالک اس معاملے پر متفق نہیں ہیں۔
