ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے امریکہ کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو ایران امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔
ایران کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک کی دفاعی صلاحیت ہر ممکن خطرے کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور قومی سلامتی کے خلاف کسی بھی کارروائی کو بلا جواب نہیں چھوڑا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ امریکہ ایران کے "پکیکس ماؤنٹین” (جو نطنز کے قریب واقع بتائی جانے والی تنصیب سے منسلک علاقہ ہے) کو "بہت جلد” نشانہ بنا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران ممکنہ طور پر اپنی جوہری سرگرمیوں کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور امریکہ اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوجی قیادت نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ یا اس کے اتحادیوں نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو اس کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خطے میں امریکی اور اتحادی مفادات بھی براہِ راست خطرے میں آ جائیں گے۔
