وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ معرکہ حق میں شکست کے بعد بھارتی رہنماؤں کے بیان بازی کی کوئی وقعت نہیں اگر بھارت نے کوئی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو پچھلے سال جو کسر رہ گئی تھی وہ بھی پوری کردینگے۔
نمائدہ خصوصی سماء سے گفتگو میں خواجہ آصف نے بھارتی ہم منصب کے پاکستان اور آزاد کشمیر سے متعلق بیان کو اُن کی سیاسی مجبوری قرار دے دیا۔ کہا طلبہ کی بڑی احتجاجی تحریک کے باعث مودی حکومت شدید دباؤ میں ہے۔ پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز بیانات بھارت کی داخلی مجبوری ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت میں ایک مقبول احتجاجی تحریک کا آغاز ہوا ہے، احتجاجی تحریک کے باعث مودی کی حکومت اس وقت دباو میں ہے، احتجاجی تحریک کے نتیجہ میں بھارتی وزیر تعلیم نے استعفی دیا ہے ، احتجاجی تحریک سے واضح ہے کہ بھارت میں سب ٹھیک نہیں۔
وزیردفاع نے کہا کہ معرکہ حق میں بھارت کی شکست فاش پوری دنیا نے دیکھی ہے، بھارت کی شکست فاش کی دنیا گواہ ہے، بھارت کو پچھلے سال کے مقابلہ میں زیادہ ذلت اٹھانی پڑے گی۔ بھارت اس شکست کے بعد بیان بازی سے اپنا پولیٹیکل کیپٹل بنانے کیلئے کوشاں ہے ، بھارتی حکام کے بیانات کی کوئی وقعت نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بہادری کے ساتھ بھارت کا مقابلہ کررہا ہے اگر پاکستان کے ساتھ مکمل جنگ لڑنا چاہتا ہے تو تیار ہیں، ہم نے پہلے بھارت کا جو حشر کیا تو وہ اسے اور دنیا کو یاد ہے۔
وزیردفاع نے کہا کہ بھارت کے ساتھ اس وقت بات چیت کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آتے ، عزت آبرو کے ساتھ معاملات طے ہوں تو اچھی بات ہوتی ہے، سفارتکاری ہمیشہ پہلا آپشن ہونی چاہیے لیکن اس وقت کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
خواجہ آصف کے مطابق بھارت نے تھرڈ پارٹی اور پراکسیز کے ساتھ پاکستان پر جنگ مسلط کی ہے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی میں اضافے میں بھارت کا ہاتھ ہے، دکھ کی بات ہے کہ بھارت کے گندے کھیل میں افغانستان بھی شامل ہوگیا ہے، انشاءاللہ ہم دہشتگردی کی لعنت کا مکمل قلع قمع کریں گے۔
