پہلی بار 4 سالہ حج پالیسی کا اعلان، اخراجات 12 سے 13 لاکھ روپے تجویز

اس پالیسی کے تحت پہلی مرتبہ 4 سالہ حج رجسٹریشن، ڈیجیٹل ویٹنگ لسٹ، متعدد حج پیکیجز، نجی شعبے کے کردار میں مرحلہ وار اضافہ اور مکمل ڈیجیٹل نظام کے ذریعے حج انتظامات چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نئی پالیسی کا مقصد شفافیت، بہتر منصوبہ بندی، اخراجات میں کمی اور عازمین حج کو معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

پالیسی کے مطابق 2027 سے 2030 تک سرکاری اور نجی حج سکیموں کا کوٹہ بالترتیب 60 اور 40 فیصد برقرار رکھا جائے گا، تاہم وفاقی کابینہ ضرورت کے مطابق اس تناسب میں ردوبدل کر سکے گی۔

پہلی مرتبہ عازمین حج کو 4 سالہ رجسٹریشن کی سہولت دی جائے گی، جس کے ذریعے وہ اپنی پسند کے سال کے لیے پیشگی رجسٹریشن کرا سکیں گے، اس مقصد کے لیے اندازاً حج اخراجات کا 10 فیصد جمع کرانا ہوگا، جبکہ حج کے لیے انتخاب مکمل طور پر شفاف ڈیجیٹل ویٹنگ لسٹ کے ذریعے ’پہلے آئیں، پہلے پائیں‘ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

حکومت نے رہائش، ٹرانسپورٹ، کیٹرنگ، فضائی سفر اور سامان کی ترسیل سمیت اہم خدمات کے لیے 3 سے 4 سال تک کے معاہدوں کی گنجائش بھی رکھی ہے تاکہ بہتر منصوبہ بندی ممکن ہو، خدمات کے معیار میں بہتری آئے اور اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔

اس کےعلاوہ سرکاری حج سکیم کے تحت مختلف دورانیے کے متعدد حج پیکیجز بھی متعارف کرائے جائیں گے، جس سے عازمین اپنی ضروریات اور مالی استطاعت کے مطابق پیکیج منتخب کر سکیں گے، حج اخراجات 12 سے 13 لاکھ روپے تجویز کیے گئے ہیں جن میں کمی بیشی ہوسکتی ہے، رقوم کی وصولی کا عمل جلد شروع ہوگا، جبکہ پاکستان کا مجموعی حج کوٹہ ایک لاکھ 79 ہزار 210 ہے۔

نئی پالیسی کے تحت حج کے تمام مراحل، بشمول رجسٹریشن، ادائیگی، مانیٹرنگ، شکایات کے ازالے اور بعد از حج جائزے کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے تحت لایا جائے گا، نجی حج کمپنیوں کے لیے پرائیویٹ حج مینجمنٹ پورٹل کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کے ذریعے بکنگ، ادائیگیاں، نگرانی اور آڈٹ کا عمل انجام دیا جائے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مستقبل میں وہ براہ راست حج انتظامات کرنے کے بجائے نگرانی، ریگولیشن اور معیار کو یقینی بنانے پر توجہ دے گی، جبکہ نجی شعبے کی شمولیت میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پالیسی میں نجی حج کمپنیوں کی رجسٹریشن اور نگرانی کو ان کی کارکردگی اور مقررہ معیار پر عمل درآمد سے مشروط کیا گیا ہے، جبکہ تمام مالی ادائیگیاں صرف حکومت کے مقرر کردہ بینکاری ذرائع سے کی جائیں گی تاکہ شفافیت اور مالی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اس کے علاوہ پاکستان اور سعودی عرب میں تمام خریداری اور معاہدے متعلقہ سرکاری قواعد کے مطابق کیے جائیں گے، حج آپریشن مکمل ہونے کے بعد اگر عازمین کی جمع کرائی گئی رقم میں سے کوئی رقم بچتی ہے تو وہ انہیں واپس کر دی جائے گی۔

پالیسی میں سرکاری اور نجی دونوں حج انتظامات کا آزادانہ تھرڈ پارٹی جائزہ اور آڈٹ بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ خدمات کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ عازمین کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے جدید ڈیجیٹل شکایت نظام، مؤثر نگرانی اور اپیل کا باقاعدہ طریقہ کار متعارف کرایا جائے گا۔

اس کے علاوہ معاونین حج کے انتخاب کے لیے میرٹ پر مبنی جامع معیار وضع کیا جائے گا، جبکہ عازمین کی تربیت کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مناسک حج، موبائل ایپس کے استعمال، صحت، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور سعودی قوانین سے متعلق آگاہی کو تربیتی پروگرام کا حصہ بنایا جائے گا۔

اسی طرح حجاج محافظ سکیم بھی برقرار رہے گی، جس کے تحت دوران حج وفات، حادثے یا ہنگامی انخلا کی صورت میں مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی مینجمنٹ سسٹم اور خصوصی ایمرجنسی رسپانس ٹیم بھی قائم کی جائے گی۔

حکومت کے مطابق حج پالیسی 2027 تا 2030 کو سعودی وژن 2030 اور بین الاقوامی معیاری طریقہ کار سے ہم آہنگ کیا گیا ہے تاکہ حج انتظامات میں شفافیت، جوابدہی، ڈیجیٹل گورننس اور عازمین کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے