سعودی عرب نے پاکستان کو بڑا مالی ریلیف دیتے ہوئے 5 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کی مدت مزید تین سال کے لیے مؤخر کر دی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اس رول اوور سے ملک پر فوری بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔
سٹیٹ بینک کے مطابق اس وقت پاکستان کے پاس سعودی عرب کے مجموعی طور پر 8 ارب ڈالر کے ڈپازٹس موجود ہیں، جبکہ 3 ارب ڈالر کی اضافی مالی معاونت رواں سال اپریل میں حاصل کی گئی تھی۔
مرکزی بینک نے بتایا کہ مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات کم ہو کر 21.5 ارب ڈالر رہ گئی ہیں۔ اسی عرصے میں غیر ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی میں بھی تقریباً نصف ارب ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے مالیاتی دباؤ میں مزید کمی آئی۔
بیان کے مطابق پاکستان جولائی کے دوران 2.2 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے واپس کر چکا ہے، جبکہ چین سے 1.3 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کی ری فنانسنگ اگلے ماہ متوقع ہے، جس سے زرمبادلہ کی پوزیشن مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔
سٹیٹ بینک نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران اوپن مارکیٹ سے 9 ارب ڈالر خریدے گئے، جبکہ دسمبر 2026 تک ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو 20.2 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
