اسپین نے شمالی افریقی علاقے سیوٹا اور پڑوسی ملک مراکش کے درمیان سمندری سرحد پر 500 میٹر طویل رکاوٹ نصب کر دی ہے۔ یہ اقدام اس سانحے کے بعد کیا گیا جس میں سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران کم از کم 67 تارکین وطن ہلاک ہو گئے۔
حکام کے مطابق بعض مہاجرین سمندر میں ڈوب گئے جبکہ کئی افراد بریک واٹر رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش میں بھگدڑ کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ اسپین نے اس واقعے کو حالیہ برسوں کے بدترین سرحدی بحرانوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے بعض یورپی رہنماؤں کی جانب سے اسپین کو شینگن زون سے معطل کرنے کے مطالبات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات تعصب، غلط معلومات، سیاسی مفادات اور حقائق سے لاعلمی پر مبنی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جمعرات اور جمعہ کے دوران 50 ہزار سے 60 ہزار افراد نے سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم ان میں سے اکثریت بعد ازاں واپس مراکش چلی گئی۔ ہفتے کی صبح بھی تراجل ساحل پر چند تارکین وطن کو ہسپانوی فوج نے حراست میں لے کر واپس سرحد کی جانب منتقل کیا۔
وزیر داخلہ فرنینڈو گرانڈے مارلاسکا نے کہا کہ اسپین قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، تاہم انہوں نے اس بحران کے باوجود مراکش کو ایک "قابلِ اعتماد شراکت دار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعاون سے صرف 24 گھنٹوں میں صورتحال پر قابو پانے میں مدد ملی۔
دوسری جانب یورپی یونین کے 22 رکن ممالک کے رہنماؤں نے اس بحران پر مشترکہ ردعمل کا مطالبہ کرتے ہوئے وزرائے داخلہ کی ہنگامی ویڈیو کانفرنس بلانے کی درخواست کی ہے۔ مشترکہ خط میں کہا گیا کہ غیر قانونی ہجرت اور بے قابو سرحدی نقل و حرکت یورپی یونین کی مشترکہ امیگریشن پالیسی کے لیے سنگین چیلنج ہے اور اس کے لیے اجتماعی حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔
